نئی دہلی، 9/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یوپی میں پہلے مرحلے کے لیے انتخابی مہم کا سلسلہ آج تھم گیا ہے، 11/فروری کو مغربی اتر پردیش کی 73/سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ مغربی اترپردیش کے جن اضلاع میں پہلے مرحلہ میں پولنگ ہو گی، ان میں شاملی، مظفر نگر، باغپت، میرٹھ، غازی آباد، گوتم بدھ نگر، ہاپوڑ، بلند شہر، علی گڑھ، متھرا، ہاتھرس، آگرہ، فیروزآباد، ایٹہ اور کاس گنج شامل ہیں۔مغربی اتر پردیش کا زیادہ تر علاقہ جاٹ اور مسلم اکثریتی والا ہے اور ان علاقوں میں یہی ووٹنگ کا رخ بھی طے کرتے ہیں۔میرٹھ، باغپت، شاملی، مظفر نگر کے علاقے کے مسلمانوں میں ایس پی -کانگریس اتحاد کی طرف جھکاؤ دیکھا جارہا ہے، لیکن انتخابات سے دو دن پہلے آئے فتوی سے اس میں کچھ تبدیلی آ سکتی ہے۔مغربی یوپی کے مظفر نگر سے لے کر میرٹھ تک جاٹ اکثریتی علاقے ہیں، 2014کے لوک سبھا انتخابات میں جاٹوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا، اس کا فائدہ بھی بی جے پی کو ملا تھا، لیکن اس بار جاٹ بی جے پی سے ناراض ہیں۔جاٹوں کے لیڈر یشپال ملک کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیاہے، نہ تو ریزرویشن کا اور نہ ہی مظفرنگر فسادات کے قصورواروں کو سزا دلانے کا، ایسے میں جاٹ ریزرویشن سنگھرش سمیتی مغربی یوپی میں مہم چلا کر بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈالنے کی اپیل کر رہی ہے، حالانکہ بی جے پی جاٹوں کو منانے میں کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔کل ہی امت شاہ نے جاٹ لیڈروں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے، لیکن اب بھی پورے وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ جاٹ پھر بی جے پی کو ووٹ دیں گے۔
بی جے پی سے ناراض ہونے کے بعد جاٹوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے جاٹ لیڈر اجیت سنگھ کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، جاٹوں کے ووٹ کرنے کاطریقہ بھی بتاتا ہے کہ ایک بار وہ اجیت سنگھ کو ووٹ دیتے ہیں اور اگلی بار انگوٹھا دکھا دیتے ہیں۔اس لحاظ سے بھی اجیت سنگھ کو کافی امیدیں ہیں۔مغربی اتر پردیش میں اس بار لوک سبھا انتخابات جیسے حالات نہیں ہیں، نہ تو نقل مکانی کا مسئلہ گرما پایا ہے اور نہ ہی ’لو جہاد‘ کا۔ایسے میں پولرائزیشن کا فائدہ بھی بی جے پی کو ملنے کی امید کم ہی ہے، ایسے میں ووٹ صرف ذات پات کی بنیاد پر پڑنے کا امکان ہے۔پہلے مرحلے کے انتخابات میں شاملی کی تھانہ بھون سیٹ سے بی جے پی کے سریش رانا اور میرٹھ کی سردھنہ سیٹ سے سنگیت سوم کو اس بار سخت ٹکر مل رہی ہے،آر ایل ڈی نے دونوں سیٹوں پر مسلم امیدوار اتار دیئے ہیں، تو سماجوادی پارٹی نے اپنے دونوں امیدوار جاٹ برادری کے اتار دیئے ہیں، ایسے میں بی جے پی کے ووٹوں میں نقب لگنی طے ہے۔گوتم بدھ نگر کی نوئیڈا سیٹ سے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ویسے تو یہ سیٹ بی جے پی کا گڑھ مانی جاتی ہے، تقریبا سوا پانچ لاکھ ووٹروں والی اس سیٹ پر پنکج کا مقابلہ ایس پی کانگریس اتحاد کے امیدوار سنیل چودھری سے ہے، لیکن برہمن اکثریتی اس سیٹ پر بی ایس پی کے امیدوار واحد براہمن امیدوار روی کانت مشرا کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتاہے۔